گروپ 20 کے ممالک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس امریکی شہر اٹلانٹا میں کسی مشترکہ اعلامیے کے بغیر اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ روس کی یوکرین میں جنگ سمیت عالمی سلامتی کے کئی اہم معاملات پر رکن ممالک میں گہرے اختلافات برقرار رہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اجلاس کے اختتام پر تسلیم کیا کہ عالمی مسائل کا متفقہ حل ابھی دور ہے۔ مشترکہ اعلامیے کی بجائے صرف چیئرمین کا بیان جاری کیا گیا، جس میں توانائی اور غذائی سلامتی، آزادیِ نیویگیشن، سپلائی چینز کی حفاظت اور نایاب معدنیات جیسی ترجیحات درج ہیں، لیکن کوئی ٹھوس معاہدہ سامنے نہ آیا۔
روبیو نے اجلاس کے پہلے ہی روز روایتی اجتماعی تصویر منسوخ کر دی تھی، کیونکہ یورپی سفارت کاروں نے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کی شمولیت پر شدید اعتراض کیا تھا اور تصویر کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
پولینڈ کے وزیرِ خارجہ رادوسواف سکورسکی نے کہا کہ جب جنگوں میں ملوث ممالک میز پر بیٹھے ہوں تو متفقہ موقف پر پہنچنا انتہائی مشکل ہے۔ دریں اثنا امریکا نے یوکرین کے لیے 2.1 ارب ڈالر کے پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائلوں کی فروخت کی منظوری بھی دے دی ہے۔


No comments:
Post a Comment