ایران اور امریکہ کے درمیان قطری ثالثی میں مذاکرات دوحہ میں مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہے، جبکہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز کا عمل درآمدی دورانیہ سات روز سے کم کر کے دو روز کر دیا گیا ہے۔
عراقچی کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت پہلے روز امریکہ کچھ اقدامات نافذ کرے گا، اور دوسرے روز آبنائے ہرمز کھل جائے گا اور بحری آمدورفت بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ابھی ایک تجویز ہے، حتمی معاہدہ نہیں، اور مذاکرات کے مزید دور جاری رہیں گے۔ ایران کی شرائط میں پابندیاں ختم کرنا، تیل کی چھوٹ بحال کرنا اور منجمد اثاثے جاری کرنا شامل ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات "ٹھیک" چل رہے ہیں اور ایران کے ساتھ جنگ "بہت جلد، کسی نہ کسی طرح" ختم ہو جائے گی، تاہم انہوں نے تہران کو خبردار بھی کیا کہ وہ معاہدہ کرے ورنہ امریکہ خود کارروائی کرے گا۔ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مطابق ٹرمپ نے نئے حملوں کا فیصلہ نہیں کیا اور سفارت کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اسی دوران اتوار کی شب آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکروں کے سمندری سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دھماکے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ امریکی عہدیداروں نے بحرین میں منامہ ڈائیلاگ میں خبردار کیا کہ ایران کو عالمی معیشت کو "یرغمال" بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔


No comments:
Post a Comment