بیجنگ — چین کی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ہفتے کے اندر کئی بڑے ماڈل متعارف کرا دیے ہیں۔ ٹینسنٹ نے 4 نومبر کو اپنا نیا ماڈل ہن یوان ایچ وائی 4 جاری کیا، جبکہ میتوان نے لانگ کیٹ 2.5 پیش کیا ہے۔
میتوان کے مطابق لانگ کیٹ 2.5 ایک کھرب 60 ارب پیرامیٹرز پر مشتمل ملٹی موڈل ماڈل ہے، جسے مکمل طور پر مقامی چپس پر تربیت دی گئی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ اب تک کی سب سے بڑی تربیتی کوشش ہے جو مکمل طور پر چینی چپس پر کی گئی۔
اسی ہفتے الیکٹرک گاڑیوں کی کمپنی ایکس پینگ نے گوانگ ژو میں لیول فور روبو ٹیکسی کے تجرباتی اجازت نامے حاصل کر لیے ہیں۔ اس کے علاوہ چین نے 5 نومبر کو لانگ مارچ 2 سی راکٹ کے ذریعے یاؤگان 51 سیٹلائٹس بھی خلا میں بھیجے۔
ماہرین کے مطابق چین مقامی چپس اور بڑے اے آئی ماڈلز کے ذریعے ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سپر کلو رینکنگ میں گوگل کا جیمنی فور آرگن پہلے نمبر پر ہے، جبکہ چینی ماڈلز میں کیمی کے تھری ون پرو سب سے آگے ہے۔


No comments:
Post a Comment