نیویارک — میموری چپ بنانے والی بڑی کمپنیوں مائیکرون، سینڈسک اور ایس کے ہائنکس کے حصص میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کے کاروباری سیشن میں مائیکرون کے حصص سات فیصد، سینڈسک آٹھ فیصد اور ایس کے ہائنکس پانچ فیصد گرے تھے، جس کے بعد رات کی ٹریڈنگ میں بھی تینوں کمپنیوں کے حصص میں تقریباً ڈھائی فیصد مزید کمی دیکھی گئی۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق بدھ کی ابتدائی کمی امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر ممکنہ سخت پابندیوں کے خدشات سے جڑی تھی۔ بعد میں کوالکوم کے نتائج نے سرمایہ کاروں کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا۔
کوالکوم کے مالی سال کی چوتھی سہ ماہی کے نتائج میں ایڈجسٹڈ آمدنی فی حصص 2.17 ڈالر رہی، جو 2.16 ڈالر کی توقع سے معمولی زیادہ تھی، جبکہ آمدنی 10.32 ارب ڈالر رہی۔ تاہم ہینڈ سیٹ کے شعبے کی فروخت سالانہ بنیادوں پر 26 فیصد کم ہو کر 5.14 ارب ڈالر رہ گئی، جس پر کمپنی کے حصص میں توسیعی ٹریڈنگ میں تقریباً نو فیصد کمی آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کی الیکٹرانکس مصنوعات کی کمزور مانگ بالآخر میموری کی صنعت کو بھی متاثر کر سکتی ہے، حالانکہ مائیکرون کو مصنوعی ذہانت کے پروسیسرز کے لیے ہائی بینڈ وڈتھ میموری کی بڑھتی ہوئی مانگ سے فائدہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود وال اسٹریٹ کے تجزیہ کار مائیکرون کے بارے میں مجموعی طور پر مثبت رائے رکھتے ہیں۔


No comments:
Post a Comment