حکومت نے مالی سال 26 کے لیے مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو نظرثانی کے بعد 3.65 فیصد مقرر کی ہے جو پہلے اعلان کردہ 3.70 فیصد کے تخمینے سے کم ہے۔ یہ فیصلہ قومی اکاؤنٹس کمیٹی کے 118ویں اجلاس میں کیا گیا جو پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے ہیڈکوارٹر میں 19 اکتوبر کو منعقد ہوا۔
کمیٹی کے مطابق مالی سال کے آخری سہ ماہی (اپریل تا جون) میں اقتصادی سرگرمیاں 2 فیصد تک سست رہیں جبکہ صنعتی پیداوار میں 4.70 فیصد کمی واقع ہوئی۔ نظرثانی شدہ اعداد و شمار کے مطابق معیشت کا حجم 450.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور فی کس آمدنی 1,896 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
معاشی ماہرین کے مطابق عالمی قرض دہندگان کے تخمینے بھی اسی دائرے میں ہیں۔ آئی ایم ایف نے 3.6 فیصد، ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے 3.7 فیصد نمو کا اندازہ لگایا تھا جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی نمو کو 3.7 فیصد کے قریب دیکھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعت اور خدمات کے شعبوں میں سست روی حکومت کے مقرر کردہ اہداف کی راہ میں رکاوٹ بنی۔

No comments:
Post a Comment