دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج بائننس نے کہا ہے کہ 29 اکتوبر کو ہونے والی ریکارڈ 6.3 ارب ڈالر کی ہیکنگ کا 90 فیصد نقصان کمپنی کے اپنے فنڈز سے پورا کر لیا گیا ہے۔ باقی 10 فیصد ایسے ٹوکنز پر مشتمل ہے جو کم آسانی سے دستیاب ہیں اور جن کی خریداری میں وقت لگ سکتا ہے۔
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے ہفتے کو باضابطہ طور پر شمالی کوریا کے سرکاری ہیکر گروپ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا۔ ادارے کے مطابق ہیکروں کو چوری شدہ اثاثے ایتھیریم میں تبدیل کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور مزید لانڈرنگ کا خدشہ ہے۔
بائننس کے شریک سی ای او رچرڈ تینگ نے کہا کہ صارفین اس نقصان کا بوجھ نہیں اٹھائیں گے۔ نقصان کی تلافی کے لیے ایک ارب ڈالر کے ’سیف فائی فَنڈ‘ (SAFU) کا نصف حصہ، فیوچرز انشورنس فنڈ اور کمپنی کے اپنے خزانے سے رقم استعمال کی گئی۔
کمپنی نے اثاثوں کی مقدار کا نیا ثبوت (پروف آف ریزروز) بھی شائع کیا ہے اور نقد رقم کی واپسی کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔


No comments:
Post a Comment