امریکہ اور ایران کے درمیان دوحہ میں تکنیکی مذاکرات کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تیل اور ایل این جی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ سنبھالتی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق مذاکرات کا مقصد مستقل امن معاہدہ ہے۔ ایران نے یورینیم افزودگی ترک کرنے سے انکار کیا ہے، تاہم بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کا دعویٰ ہے کہ اس نے ریاض اور خمیس مشیط کی طرف داغے گئے حوثیوں کے تین بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی سے عالمی تیل کی قیمتوں میں استحکام آئے گا، جس سے پاکستان سمیت درآمدی ممالک کو ریلیف ملے گا۔


No comments:
Post a Comment