امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جمعرات کو امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایران کے خلاف تازہ فوجی آپشنز پر بریفنگ دی۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن رواں برس کے اوائل میں امریکا اور اسرائیل کی ایران پر ہونے والی کارروائیوں کے بعد اب ایران کے خلاف ایک نئی بڑی فوجی مہم کے امکان پر غور کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فضائی دفاع، گولہ بارود اور فوجی دستوں کی نئی تعیناتیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ البتہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
ادھر خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے جمعرات کو ریاض کے اوپر حوثیوں کے دو بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب کم از کم چار تیل بردار بحری جہاز بحری مائنز سے ٹکرائے، جن میں سے تین میں آگ لگ گئی۔ ان واقعات کے بعد بین الاقوامی برادری نے کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کی اپیل کی ہے۔


No comments:
Post a Comment