لاہور نے ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سرِفہرست مقام حاصل کر لیا ہے۔ جمعرات کی صبح 10 سے 11 بجے کے دوران عالمی نگرانی کے ادارے آئی کیو ایئر کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 419 درج کیا گیا، جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک درجے میں آتا ہے۔ اسی فہرست میں مصر کا قاہرہ 274 کے انڈیکس کے ساتھ دوسرے اور کراچی 165 کے انڈیکس کے ساتھ آٹھویں نمبر پر رہا۔
پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی نئی رپورٹ "Unveiling Pakistan's Air Pollution" میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں فضائی آلودگی ہر سال تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار قبل از وقت اموات کا سبب بنتی ہے، جبکہ اس کے باعث اوسط متوقع عمر میں 3.9 سال کی کمی واقع ہو رہی ہے۔ لاہور میں طویل عرصے تک آلودہ ہوا میں رہنے سے متوقع عمر سات سال تک کم ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق لاہور میں باریک ذرات (PM2.5) کی سالانہ اوسط 110 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر ہے، جو عالمی ادارۂ صحت کی سالانہ رہنما خطوط سے 22 گنا زائد ہے۔ آلودگی کا معاشی بوجھ بھی بھاری ہے، جو ملکی مجموعی پیداوار کا تقریباً 6.5 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کے دھوئیں اور صنعتی اخراج پر قابو پائے بغیر اس بحران پر قابو پانا ممکن نہیں۔


No comments:
Post a Comment