طبی جریدے "دی لانسیٹ" میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق موٹاپے کے شکار افراد میں انفلوئنزا، کووڈ-19 اور نمونیا سمیت متعدی بیماریوں سے ہسپتال میں داخل ہونے یا موت کا خطرہ 70 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ برطانیہ اور فن لینڈ کے محققین نے یہ مطالعہ پانچ لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کی بنیاد پر کیا جن کی نگرانی 13 سے 14 سال تک کی گئی۔
تحقیق کے مطابق شدید موٹاپے کے شکار افراد میں یہ خطرہ تین گنا تک بڑھ جاتا ہے۔ عالمی اعداد و شمار پر ان نتائج کا اطلاق کرتے ہوئے ٹیم نے اندازہ لگایا کہ 2023 میں متعدی بیماریوں سے ہونے والی 54 لاکھ اموات میں سے تقریباً چھ لاکھ اموات کا تعلق موٹاپے سے تھا، یعنی ہر دس میں سے ایک موت۔
ہیلسنکی یونیورسٹی کی ماہر سولجا نائبرگ کا کہنا ہے کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ موٹاپے کے شکار افراد مختلف متعدی بیماریوں سے سنگین بیمار ہونے یا ہلاک ہونے کا نمایاں طور پر زیادہ خطرہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت مند خوراک تک سستی رسائی اور جسمانی سرگرمی کے مواقع جیسی پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پایا جا سکے۔

No comments:
Post a Comment