یوکرین نے روس کے خلاف ایک ہزار سے زائد ڈرونز کا حملہ کیا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی کے درمیان لفظی کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یوکرین نے روس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یوکرین کی جانب سے روس کے تیل کے ڈھانچے پر حملوں پر تنقید کی اور کہا کہ نئی پابندیاں امن مذاکرات کو متاثر کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب زیلینسکی نے روس پر الزام لگایا کہ وہ یوکرین کی توانائی تنصیبات پر حملے کر رہا ہے، جو ٹرمپ کے دعوے کے برخلاف ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے تصدیق کی ہے کہ ممکنہ سربراہی اجلاس کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے تاہم نہ تو ملاقات کی تاریخ طے ہوئی ہے اور نہ ہی اس کے ایجنڈے پر اتفاق ہوا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز کہا کہ صدر ٹرمپ کو روس پر پابندیوں کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے میں 60 دن تک لگ سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ تنازع اب جنگ کے میدان کے ساتھ سفارتی محاذ پر بھی فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔


No comments:
Post a Comment